جو سامنے تھا اس کے خد و خال نہیں یاد
وہ یاد رہا جس کو ذرا دیکھ لیا ہے
شہزاد احمد
کبھی کبھی چھلک اٹھتا ہے آب و رنگ ان کا
وگرنہ دشت تو سوکھے ہوئے سمندر ہیں
شہزاد احمد
کل تھی یہ فکر اسے حال سنائیں کیسے
آج یہ سوچتے ہیں اس کو سنا کیوں آئے
شہزاد احمد
کم نہیں ہے یہ اذیت کہ ابھی زندہ ہوں
اب مرے سر پہ کوئی اور بلا کیوں آئے
شہزاد احمد
کرو بے نور محفل امروز
تربتوں پر دیے جلاتے رہو
شہزاد احمد
خامشی ہی میں سہی پر کبھی اظہار تو کر
اس قدر ضبط سے سینہ ترا پھٹ جائے گا
شہزاد احمد
خبر نہیں کہ خلا کس جگہ پہ ہو موجود
زمین پر بھی قدم پھونک پھونک کر رکھیے
شہزاد احمد
خلق بے پروا خدا بندوں سے تنگ آیا ہوا
میں اکیلا پھر رہا ہوں حشر کے میدان میں
شہزاد احمد
خود ہی تصویر بناتا ہوں مٹا دیتا ہوں
بت گری میرے لیے بت شکنی ہو جیسے
شہزاد احمد

