حیراں ہوں حاسدوں کو پتا کیسے چل گیا
ان ولولوں کا جو میرے دل میں ابھی نہ تھے
شہزاد احمد
ہم اپنے حال پر خود رو دیے ہیں
کبھی ایسی بھی حالت ہو گئی ہے
شہزاد احمد
ہم دو قدم بھی چل نہ سکے خاک پا ہوئے
جو قافلے کے ساتھ گئے جانے کیا ہوئے
شہزاد احمد
ہم جو دستک کبھی دیتے تھے صبا کی مانند
آپ دروازۂ دل کھول دیا کرتے تھے
شہزاد احمد
ہمارے پیش نظر منزلیں کچھ اور بھی تھیں
یہ حادثہ ہے کہ ہم تیرے پاس آ پہنچے
شہزاد احمد
ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم
چراغ بھی نہ جلائے چراغ سے کوئی
شہزاد احمد
ہر دم تری شبیہ تھی آنکھوں کے سامنے
تنہا بھی ہم نہیں تھے ترے ساتھ بھی نہ تھے
شہزاد احمد
ہر طرف پھیلی ہوئی تھی روشنی ہی روشنی
وہ بہاریں تھیں کہ اب کے باغ میں رستہ نہ تھا
شہزاد احمد
حوصلہ ہے تو سفینوں کے علم لہراؤ
بہتے دریا تو چلیں گے اسی رفتار کے ساتھ
شہزاد احمد

