EN हिंदी
شہزاد احمد شیاری | شیح شیری

شہزاد احمد شیر

192 شیر

دشت میں کیسی دیواریں
مجنوں کس کا ہمسایہ

شہزاد احمد




دیوار کس طرف سے بڑھے کچھ خبر نہیں
ہے بے شمار شہروں میں جنگل گھرا ہوا

شہزاد احمد




دل بھی تو اک دیار ہے روشن ہرا بھرا
آنکھوں کا یہ چراغ بجھا اور دیکھ لے

شہزاد احمد




دل و نگاہ کا یہ فاصلہ بھی کیوں رہ جائے
اگر تو آئے تو میں دل کو آنکھ میں رکھ لوں

شہزاد احمد




دل پر بھی آؤ ایک نظر ڈالتے چلیں
شاید چھپے ہوئے ہوں یہیں دن بہار کے

شہزاد احمد




دل پہ اے دوست قیامت سی گزر جاتی ہے
تم نگاہ غلط انداز سے دیکھا نہ کرو

شہزاد احمد




دل سا وحشی کبھی قابو میں نہ آیا یارو
ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے

شہزاد احمد




دن نکلتے ہی وہ خوابوں کے جزیرے کیا ہوئے
صبح کا سورج مری آنکھیں چرا کر لے گیا

شہزاد احمد




دنیا میں اندھیروں کے سوا اور رہا کیا
اک تیری تمنا سو چراغ سحری ہے

شہزاد احمد