دشت میں کیسی دیواریں
مجنوں کس کا ہمسایہ
شہزاد احمد
دیوار کس طرف سے بڑھے کچھ خبر نہیں
ہے بے شمار شہروں میں جنگل گھرا ہوا
شہزاد احمد
دل بھی تو اک دیار ہے روشن ہرا بھرا
آنکھوں کا یہ چراغ بجھا اور دیکھ لے
شہزاد احمد
دل و نگاہ کا یہ فاصلہ بھی کیوں رہ جائے
اگر تو آئے تو میں دل کو آنکھ میں رکھ لوں
شہزاد احمد
دل پر بھی آؤ ایک نظر ڈالتے چلیں
شاید چھپے ہوئے ہوں یہیں دن بہار کے
شہزاد احمد
دل پہ اے دوست قیامت سی گزر جاتی ہے
تم نگاہ غلط انداز سے دیکھا نہ کرو
شہزاد احمد
دل سا وحشی کبھی قابو میں نہ آیا یارو
ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے
شہزاد احمد
دن نکلتے ہی وہ خوابوں کے جزیرے کیا ہوئے
صبح کا سورج مری آنکھیں چرا کر لے گیا
شہزاد احمد
دنیا میں اندھیروں کے سوا اور رہا کیا
اک تیری تمنا سو چراغ سحری ہے
شہزاد احمد

