EN हिंदी
شہزاد احمد شیاری | شیح شیری

شہزاد احمد شیر

192 شیر

ڈوب جاتا ہے دمکتا ہوا سورج لیکن
مہندیاں شام کے ہاتھوں میں رچا دیتا ہے

شہزاد احمد




دور سے دیکھ کے میں نے اسے پہچان لیا
اس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا کیسے ہو

شہزاد احمد




ایک لمحے میں کٹا ہے مدتوں کا فاصلہ
میں ابھی آیا ہوں تصویریں پرانی دیکھ کر

شہزاد احمد




ایک سے منظر دیکھ دیکھ کر آنکھیں دکھنے لگتی ہیں
اس رستے پر پیڑ بہت ہیں اور ہرا کوئی بھی نہیں

شہزاد احمد




فلک سے گھورتی ہیں مجھ کو بے شمار آنکھیں
نہ چین آتا ہے جی کو نہ رات ڈھلتی ہے

شہزاد احمد




گھبرا کے آسماں کی طرف دیکھتی تھی خلق
جیسے خدا زمین پہ موجود ہی نہ تھا

شہزاد احمد




گوشۂ دل کی خموشی کا تمنائی میں
اور ہنگامے اٹھا لایا ہے بازار سے تو

شہزاد احمد




گزر ہی جائے گی شہزادؔ جو گزرنی ہے
سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے

شہزاد احمد




گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے
گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے

شہزاد احمد