روشنی آدھی ادھر آدھی ادھر
اک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ
عبید اللہ علیم
میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا
تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی
عبید اللہ علیم
میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا
عبید اللہ علیم
میں ایک سے کسی موسم میں رہ نہیں سکتا
کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے
عبید اللہ علیم
کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں
عبید اللہ علیم
خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں
کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں
عبید اللہ علیم
خورشید مثال شخص کل شام
مٹی کے سپرد کر دیا ہے
عبید اللہ علیم
کھا گیا انساں کو آشوب معاش
آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ
عبید اللہ علیم
کل ماتم بے قیمت ہوگا آج ان کی توقیر کرو
دیکھو خون جگر سے کیا کیا لکھتے ہیں افسانے لوگ
عبید اللہ علیم

