میں ایک سے کسی موسم میں رہ نہیں سکتا
کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے
عبید اللہ علیم
پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگا
کہ روح نیند میں تھی اور جاگتا تھا میں
عبید اللہ علیم
پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک شخص
عبید اللہ علیم
مجھ سے مرا کوئی ملنے والا
بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے
عبید اللہ علیم
میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا
تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی
عبید اللہ علیم
میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا
عبید اللہ علیم
خورشید مثال شخص کل شام
مٹی کے سپرد کر دیا ہے
عبید اللہ علیم
کل ماتم بے قیمت ہوگا آج ان کی توقیر کرو
دیکھو خون جگر سے کیا کیا لکھتے ہیں افسانے لوگ
عبید اللہ علیم
کھا گیا انساں کو آشوب معاش
آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ
عبید اللہ علیم

