شیشے کے اس طرف سے میں سب کو تک رہا ہوں
مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ میں
جون ایلیا
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
جون ایلیا
شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے
جون ایلیا
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہم راہ چلیں
آج وہاں قوالی ہوگی جونؔ چلو درگاہ چلیں
جون ایلیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا
جون ایلیا
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں
یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے
جون ایلیا
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
جون ایلیا
مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا
جون ایلیا

