مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی
دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے
فراق گورکھپوری
پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے
ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے
فراق گورکھپوری
قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن
آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا
فراق گورکھپوری
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
فراق گورکھپوری
رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے
واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم
فراق گورکھپوری
رونے کو تو زندگی پڑی ہے
کچھ تیرے ستم پہ مسکرا لیں
فراق گورکھپوری
رونے والے ہوئے چپ ہجر کی دنیا بدلی
شمع بے نور ہوئی صبح کا تارا نکلا
فراق گورکھپوری
سانس لیتی ہے وہ زمین فراقؔ
جس پہ وہ ناز سے گزرتے ہیں
فراق گورکھپوری
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
فراق گورکھپوری

