EN हिंदी
داغؔ دہلوی شیاری | شیح شیری

داغؔ دہلوی شیر

174 شیر

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

ah! this denial, nothing can allay
every day you say no, not today

داغؔ دہلوی




اس وہم میں وہ داغؔ کو مرنے نہیں دیتے
معشوق نہ مل جائے کہیں زیر زمیں اور

داغؔ دہلوی




جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا
بارہا آزما کے دیکھ لیا

داغؔ دہلوی




جلی ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں
کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں

داغؔ دہلوی




جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں

داغؔ دہلوی




جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

داغؔ دہلوی




جس جگہ بیٹھے مرا چرچا کیا
خود ہوئے رسوا مجھے رسوا کیا

داغؔ دہلوی




جس خط پہ یہ لگائی اسی کا ملا جواب
اک مہر میرے پاس ہے دشمن کے نام کی

داغؔ دہلوی




جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

where virgins aged a million years reside
hopes for such a heaven why abide

داغؔ دہلوی