اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں
ah! this denial, nothing can allay
every day you say no, not today
داغؔ دہلوی
اس وہم میں وہ داغؔ کو مرنے نہیں دیتے
معشوق نہ مل جائے کہیں زیر زمیں اور
داغؔ دہلوی
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا
بارہا آزما کے دیکھ لیا
داغؔ دہلوی
جلی ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں
کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں
داغؔ دہلوی
جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
داغؔ دہلوی
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں
داغؔ دہلوی
جس جگہ بیٹھے مرا چرچا کیا
خود ہوئے رسوا مجھے رسوا کیا
داغؔ دہلوی
جس خط پہ یہ لگائی اسی کا ملا جواب
اک مہر میرے پاس ہے دشمن کے نام کی
داغؔ دہلوی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
where virgins aged a million years reside
hopes for such a heaven why abide
داغؔ دہلوی

