میں گہرے پانیوں کو چیر دیتا ہوں مگر حسرتؔ
جہاں پانی بہت کم ہو وہاں میں ڈوب جاتا ہوں
اجیت سنگھ حسرت
خاک میں ملنا تھا آخر بے نشاں ہونا ہی تھا
جلنے والے کے مقدر میں دھواں ہونا ہی تھا
اجیت سنگھ حسرت
آخری امید بھی آنکھوں سے چھلکائے ہوئے
کون سی جانب چلے ہیں تیرے ٹھکرائے ہوئے
اجیت سنگھ حسرت
جس میں انسانیت نہیں رہتی
ہم درندے ہیں ایسے جنگل کے
اجیت سنگھ حسرت
جنہیں تھا شوق میلہ دیکھنے کا
وہ سارے لوگ اپنے گھر گئے ہیں
اجیت سنگھ حسرت
ہجر کا دن کیوں چڑھنے پائے
وصل کی شب طولانی کر دو
اجیت سنگھ حسرت
ہجر کا دن کیوں چڑھنے پائے
وصل کی شب طولانی کر دو
اجیت سنگھ حسرت
ہزار چپ سہی پر اس کا بولتا چہرہ
خموش رہ کے ہمیں لا جواب کر دے گا
اجیت سنگھ حسرت
ہمارے عہد کا یہ المیہ ہے
اجالے تیرگی سے ڈر گئے ہیں
اجیت سنگھ حسرت

