سرد آہوں سے دل کی آگ بجھا
گرم اشکوں سے جام بھرتا جا
اجیت سنگھ حسرت
خاک میں ملنا تھا آخر بے نشاں ہونا ہی تھا
جلنے والے کے مقدر میں دھواں ہونا ہی تھا
اجیت سنگھ حسرت
میں گہرے پانیوں کو چیر دیتا ہوں مگر حسرتؔ
جہاں پانی بہت کم ہو وہاں میں ڈوب جاتا ہوں
اجیت سنگھ حسرت
میں گہرے پانیوں کو چیر دیتا ہوں مگر حسرتؔ
جہاں پانی بہت کم ہو وہاں میں ڈوب جاتا ہوں
اجیت سنگھ حسرت
پہلے وقتوں میں ہو تو ہو شاید
دوستی اب حسین گالی ہے
اجیت سنگھ حسرت
روٹھا یار منانا ہے
کوئی سوانگ رچاؤ اب
اجیت سنگھ حسرت
ترے پیام ہی سے سرخ ہو گیا ہے بدن
کہ مینہ پڑا نہیں ہے کھل اٹھے کنول پہلے
اجیت سنگھ حسرت
یہ گرم گرم سے آنسو بتا رہے ہیں یہی
ضرور آگ کہیں دل کے آس پاس لگی
اجیت سنگھ حسرت
وہ دن ہوا ہوئے وہ زمانے گزر گئے
بندے کا جب قیام پری زادیوں میں تھا
اجیت سنگھ حسرت

