EN हिंदी
زندگی شیاری | شیح شیری

زندگی

163 شیر

زندگی چھین لے بخشی ہوئی دولت اپنی
تو نے خوابوں کے سوا مجھ کو دیا بھی کیا ہے

اختر سعید خان




دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی
اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

اختر شیرانی




زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا رب
عیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا

اختر شیرانی




درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے

علیم اختر




لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے
محسوس ہو رہی ہے خود اپنی کمی مجھے

علی احمد جلیلی




عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے
زندگی اک حسین سنگم ہے

علی جواد زیدی




زیست کا اعتبار کیا ہے امیرؔ
آدمی بلبلہ ہے پانی کا

امیر مینائی