EN हिंदी
زندگی شیاری | شیح شیری

زندگی

163 شیر

زندگی اور ہیں کتنے ترے چہرے یہ بتا
تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ہے

امیر قزلباش




کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں
یوں دیکھتی ہے جیسے مجھے جانتی نہیں

انجم رہبر




زندگی کی ضرورتوں کا یہاں
حسرتوں میں شمار ہوتا ہے

انور شعور




موت ہی انسان کی دشمن نہیں
زندگی بھی جان لے کر جائے گی

عرش ملسیانی




ہر نفس اک شراب کا ہو گھونٹ
زندگانی حرام ہے ورنہ

آرزو لکھنوی




زندگی اور زندگی کی یادگار
پردہ اور پردے پہ کچھ پرچھائیاں

اثر لکھنوی




لوگ مرتے بھی ہیں جیتے بھی ہیں بیتاب بھی ہیں
کون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں

اصغر گونڈوی