EN हिंदी
زندگی شیاری | شیح شیری

زندگی

163 شیر

بڑا گھاٹے کا سودا ہے صداؔ یہ سانس لینا بھی
بڑھے ہے عمر جیوں جیوں زندگی کم ہوتی جاتی ہے

صدا انبالوی




غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

صفی لکھنوی




اے عدم کے مسافرو ہشیار
راہ میں زندگی کھڑی ہوگی

ساغر صدیقی




موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ
زندگی کی کوئی کڑی ہوگی

ساغر صدیقی




دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

ساحر لدھیانوی




گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے
پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم

ساحر لدھیانوی




ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت
دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم

ساحر لدھیانوی