EN हिंदी
زندگی شیاری | شیح شیری

زندگی

163 شیر

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے
ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

مجروح سلطانپوری




زندگی خواب دیکھتی ہے مگر
زندگی زندگی ہے خواب نہیں

مقبول نقش




میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے

میر تقی میر




وہ جنگلوں میں درختوں پہ کودتے پھرنا
برا بہت تھا مگر آج سے تو بہتر تھا

محمد علوی




یہی زندگی مصیبت یہی زندگی مسرت
یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ

معین احسن جذبی




منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو
ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

منیر نیازی




زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

مظفر وارثی