EN हिंदी
محبت شیاری | شیح شیری

محبت

86 شیر

بس ایک ہی بلا ہے محبت کہیں جسے
وہ پانیوں میں آگ لگاتی ہے آج بھی

اجیت سنگھ حسرت




عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

اکبر الہ آبادی




اب تو ملیے بس لڑائی ہو چکی
اب تو چلئے پیار کی باتیں کریں

اختر شیرانی




ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

علامہ اقبال




عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا

الطاف حسین حالی




ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

seeing my condition, she laughs and asks of me
"Easy did you then imagine, loving me would be?"

امیر مینائی




مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

امیر مینائی