EN हिंदी
مشہور شیاری | شیح شیری

مشہور

248 شیر

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

sorrows other than love's longing does this life provide
comforts other than a lover's union too abide

فیض احمد فیض




چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے

فیض احمد فیض




دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

فیض احمد فیض




گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض




کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

فیض احمد فیض




مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

فیض احمد فیض




اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض