EN हिंदी
مشہور شیاری | شیح شیری

مشہور

248 شیر

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

فیض احمد فیض




یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

فیض احمد فیض




زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

فیض احمد فیض




گل تو گل خار تک چن لیے ہیں
پھر بھی خالی ہے گلچیں کا دامن

فنا نظامی کانپوری




کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن
جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن

فنا نظامی کانپوری




بہلا نہ دل نہ تیرگیٔ شام غم گئی
یہ جانتا تو آگ لگاتا نہ گھر کو میں

فانی بدایونی




ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ
زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی