EN हिंदी
دوست شیاری | شیح شیری

دوست

53 شیر

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

ثاقب لکھنوی




دشمنوں کو ستم کا خوف نہیں
دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

شکیل بدایونی




میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

My companion, my intimate, be not a friend and yet betray
The pain of love is fatal now, for my life please do not pray

شکیل بدایونی




مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے
یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

شکیل بدایونی