EN हिंदी
دوست شیاری | شیح شیری

دوست

53 شیر

پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے
نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

فاضل جمیلی




دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

حبیب جالب




دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں
دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

I do nor fear injury from my enemies
what frightens me is my friend's fidelities

حفیظ بنارسی




دوستی عام ہے لیکن اے دوست
دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے

friendship is commonplace my dear
but friends are hard to find I fea

حفیظ ہوشیارپوری




دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

حفیظ جالندھری




دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

may my friends too receive this wealth of pain
I cannot envisage my solitary gain

حفیظ جالندھری




دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر
دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا

حیدر علی آتش