EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنی لغزش کو تو الزام نہ دے گا کوئی
لوگ تھک ہار کے مجرم ہمیں ٹھہرائیں گے

فاروق شفق




ہونے والا تھا اک حادثہ رہ گیا
کل کا سب سے بڑا واقعہ رہ گیا

فاروق شفق




اس سیہ خانے میں تجھ کو جاگنا ہے رات بھر
ان ستاروں کو نہ بے مقصد ہتھیلی پر بجھا

فاروق شفق




سامنے جھیل ہے جھیل میں آسماں
آسماں میں یہ اڑتا ہوا کون ہے

فاروق شفق




شہر کا منظر ہمارے گھر کے پس منظر میں ہے
اب ادھر بھی اجنبی چہرے نظر آنے لگے

فاروق شفق




شہر میں جینا ہے چلنا دو رخی تلوار پر
آدمی کس سے بچے کس کی طرف داری کرے

فاروق شفق




سنا ہے ہر گھڑی تو مسکراتا رہتا ہے
مجھے بھی جذب ذرا کر کے جسم و جاں میں ملا

فاروق شفق