EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھ پہ ہو جائے تری چشم کرم گر پل بھر
پھر میں یہ دونوں جہاں ''بات ذرا سی'' لکھوں

فرحت شہزاد




پرستش کی ہے میری دھڑکنوں نے
تجھے میں نے فقط چاہا نہیں ہے

فرحت شہزاد




صوت کیا شے ہے خامشی کیا ہے
غم کسے کہتے ہیں خوشی کیا ہے

فرحت شہزاد




ترا وجود گواہی ہے میرے ہونے کی
میں اپنی ذات سے انکار کس طرح کرتا

فرحت شہزاد




تجھ کو کھو کر مجھ پر وہ بھی دن آئے
چھپ نہ سکا دکھ پیچھے کئی نقابوں کے

فرحت شہزاد




یہ زمیں خواب ہے آسماں خواب ہے
اک مکاں ہی نہیں لا مکاں خواب ہے

فرحت شہزاد




زندگی کٹ گئی مناتے ہوئے
اب ارادہ ہے روٹھ جانے کا

فرحت شہزاد