EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہزار ترک وفا کا خیال ہو لیکن
جو روبرو ہوں تو بڑھ کر گلے لگا لینا

فارغ بخاری




جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں
ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں

فارغ بخاری




جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ
سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

فارغ بخاری




کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی
راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

فارغ بخاری




کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے
جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

فارغ بخاری




منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی
جو اپنی زباں سے بولتا ہے

فارغ بخاری




محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں
خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

فارغ بخاری