EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ کیوں کہتے ہو راہ عشق پر چلنا ہے ہم کو
کہو کہ زندگی سے اب فراغت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں




عزیز مجھ کو ہیں طوفان ساحلوں سے سوا
اسی لیے ہے خفا میرا ناخدا مجھ سے

فرحت شہزاد




بات اپنی انا کی ہے ورنہ
یوں تو دو ہاتھ پر کنارا ہے

فرحت شہزاد




دیکھ کے جس کو دل دکھتا تھا
وہ تصویر جلا دی ہم نے

فرحت شہزاد




ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے
بن ترے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

فرحت شہزاد




حرف جیسے ہو گئے سارے منافق ایک دم
کون سے لفظوں میں سمجھاؤں تمہیں دل کا پیام

فرحت شہزاد




میں شاید تیرے دکھ میں مر گیا ہوں
کہ اب سینے میں کچھ دکھتا نہیں ہے

فرحت شہزاد