الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز
یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں
فرحت زاہد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں
فرحت زاہد
ٹیگز:
| اورات |
| 2 لائنیں شیری |
جس بادل نے سکھ برسایا جس چھاؤں میں پریت ملی
آنکھیں کھول کے دیکھا تو وہ سب موسم لمحاتی تھے
فرحت زاہد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن
اندر سے مکان گر رہا ہے
فارغ بخاری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں
دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں
فارغ بخاری
ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول
ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں
فارغ بخاری
ہم سے انساں کی خجالت نہیں دیکھی جاتی
کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے
فارغ بخاری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

