نا مہربانیوں کا گلا تم سے کیا کریں
ہم بھی کچھ اپنے حال پہ اب مہرباں نہیں
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر
آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
فانی بدایونی
نہیں ضرور کہ مر جائیں جاں نثار تیرے
یہی ہے موت کہ جینا حرام ہو جائے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| موٹ |
| 2 لائنیں شیری |
پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا
پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانیؔ
یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں ہے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
روز ہے درد محبت کا نرالا انداز
روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| تصویر |
| 2 لائنیں شیری |
روز جزا گلہ تو کیا شکر ستم ہی بن پڑا
ہائے کہ دل کے درد نے درد کو دل بنا دیا
فانی بدایونی

