EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نا مہربانیوں کا گلا تم سے کیا کریں
ہم بھی کچھ اپنے حال پہ اب مہرباں نہیں

فانی بدایونی




ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر
آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

فانی بدایونی




نہیں ضرور کہ مر جائیں جاں نثار تیرے
یہی ہے موت کہ جینا حرام ہو جائے

فانی بدایونی




پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا
پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے

فانی بدایونی




رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانیؔ
یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں ہے

فانی بدایونی




روز ہے درد محبت کا نرالا انداز
روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے

فانی بدایونی




روز جزا گلہ تو کیا شکر ستم ہی بن پڑا
ہائے کہ دل کے درد نے درد کو دل بنا دیا

فانی بدایونی