EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

روح ارباب محبت کی لرز جاتی ہے
تو پشیمان نہ ہو اپنی جفا یاد نہ کر

فانی بدایونی




روح گھبرائی ہوئی پھرتی ہے میری لاش پر
کیا جنازے پر میرے خط کا جواب آنے کو ہے

فانی بدایونی




شکوۂ ہجر پہ سر کاٹ کے فرماتے ہیں
پھر کروگے کبھی اس منہ سے شکایت میری

فانی بدایونی




سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

فانی بدایونی




سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

فانی بدایونی




صور و منصور و طور ارے توبہ
ایک ہے تیری بات کا انداز

فانی بدایونی




ترک امید بس کی بات نہیں
ورنہ امید کب بر آئی ہے

فانی بدایونی