جسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوری کی روح
خیر جو چاہا کیا اب یہ بتا ہم کیا کریں
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کفن اے گرد لحد دیکھ نہ میلا ہو جائے
آج ہی ہم نے یہ کپڑے ہیں نہا کے بدلے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کرم بے حساب چاہا تھا
ستم بے حساب میں گزری
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ
کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
فانی بدایونی
کس خرابی سے زندگی فانیؔ
اس جہان خراب میں گزری
فانی بدایونی
کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا
فانی بدایونی
ٹیگز:
| موٹ |
| 2 لائنیں شیری |
کسی کو کیا مرے سود و زیاں سے
گرے کیوں برق بچ کر آشیاں سے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

