EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوری کی روح
خیر جو چاہا کیا اب یہ بتا ہم کیا کریں

فانی بدایونی




کفن اے گرد لحد دیکھ نہ میلا ہو جائے
آج ہی ہم نے یہ کپڑے ہیں نہا کے بدلے

فانی بدایونی




کرم بے حساب چاہا تھا
ستم بے حساب میں گزری

فانی بدایونی




کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ
کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں

فانی بدایونی




کس خرابی سے زندگی فانیؔ
اس جہان خراب میں گزری

فانی بدایونی




کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا
بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا

فانی بدایونی




کسی کو کیا مرے سود و زیاں سے
گرے کیوں برق بچ کر آشیاں سے

فانی بدایونی