EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میرے جنوں کو زلف کے سائے سے دور رکھ
رستے میں چھاؤں پا کے مسافر ٹھہر نہ جائے

فانی بدایونی




میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول
تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا

فانی بدایونی




مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے
عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

فانی بدایونی




مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی
وہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا

فانی بدایونی




مسکرائے وہ حال دل سن کر
اور گویا جواب تھا ہی نہیں

فانی بدایونی




نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی




نہ انتہا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو یہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی