EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تنکوں سے کھیلتے ہی رہے آشیاں میں ہم
آیا بھی اور گیا بھی زمانہ بہار کا

فانی بدایونی




تمہیں کہو کہ تمہیں اپنا سمجھ کے کیا پایا
مگر یہی کہ جو اپنے تھے سب پرائے ہوئے

فانی بدایونی




اس کو بھولے تو ہوئے ہو فانیؔ
کیا کروگے وہ اگر یاد آیا

فانی بدایونی




وہ نظر کامیاب ہو کے رہی
دل کی بستی خراب ہو کے رہی

فانی بدایونی




وہ صبح عید کا منظر ترے تصور میں
وہ دل میں آ کے ادا تیرے مسکرانے کی

فانی بدایونی




یا کہتے تھے کچھ کہتے جب اس نے کہا کہئے
تو چپ ہیں کہ کیا کہئے کھلتی ہے زباں کوئی

فانی بدایونی




یا ترے محتاج ہیں اے خون دل
یا انہیں آنکھوں سے دریا بھر گئے

فانی بدایونی