EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کچھ کٹی ہمت سوال میں عمر
کچھ امید جواب میں گزری

فانی بدایونی




کیا بلا تھی ادائے پرسش یار
مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا

فانی بدایونی




میں نے فانیؔ ڈوبتی دیکھی ہے نبض کائنات
جب مزاج یار کچھ برہم نظر آیا مجھے

فانی بدایونی




مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیات
مگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے

فانی بدایونی




موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

فانی بدایونی




موت آنے تک نہ آئے اب جو آئے ہو تو ہائے
زندگی مشکل ہی تھی مرنا بھی مشکل ہو گیا

فانی بدایونی




موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا نہ رہا

فانی بدایونی