EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

فانی دوائے درد جگر زہر تو نہیں
کیوں ہاتھ کانپتا ہے مرے چارہ ساز کا

فانی بدایونی




ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر
جس کی تصویر ہے خیال اپنا

فانی بدایونی




ہرمصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب
اس طرح گردش دوراں کو رلایا میں نے

فانی بدایونی




ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ
زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

فانی بدایونی




ہزار ڈھونڈئیے اس کا نشاں نہیں ملتا
جبیں ملے تو ملے آستاں نہیں ملتا

فانی بدایونی




ہجر میں مسکرائے جا دل میں اسے تلاش کر
ناز ستم اٹھائے جا راز ستم نہ فاش کر

فانی بدایونی




ہوتے ہیں راز عشق و محبت اسی سے فاش
آنکھیں زباں نہیں ہے اگر بے زباں نہیں

فانی بدایونی