ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
صبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہے
فانی بدایونی
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
فانی بدایونی
اس درد کا علاج اجل کے سوا بھی ہے
کیوں چارہ ساز تجھ کو امید شفا بھی ہے
فانی بدایونی
جلوہ و دل میں فرق نہیں جلوے کو ہی اب دل کہتے ہیں
یعنی عشق کی ہستی کا آغاز تو ہے انجام نہیں
فانی بدایونی
جور کو جور بھی اب کیا کہیے
خود وہ تڑپا کے تڑپ جاتے ہیں
فانی بدایونی
جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ
مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے
فانی بدایونی
جینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتے
کیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ڈالی
فانی بدایونی

