EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے

فانی بدایونی




دل سراپا درد تھا وہ ابتدائے عشق تھی
انتہا یہ ہے کہ فانیؔ درد اب دل ہو گیا

فانی بدایونی




دل آباد کا فانیؔ کوئی مفہوم نہیں
ہاں مگر جس میں کوئی حسرت برباد رہے

فانی بدایونی




دل مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غم گسار تھا نہ رہا

فانی بدایونی




دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے
موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

فانی بدایونی




دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا
ہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھا

فانی بدایونی




ایک عالم کو دیکھتا ہوں میں
یہ ترا دھیان ہے مجسم کیا

فانی بدایونی