دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| دل |
| 2 لائنیں شیری |
دل سراپا درد تھا وہ ابتدائے عشق تھی
انتہا یہ ہے کہ فانیؔ درد اب دل ہو گیا
فانی بدایونی
دل آباد کا فانیؔ کوئی مفہوم نہیں
ہاں مگر جس میں کوئی حسرت برباد رہے
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غم گسار تھا نہ رہا
فانی بدایونی
ٹیگز:
| دل |
| 2 لائنیں شیری |
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے
موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے
فانی بدایونی
دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھا
ہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھا
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک عالم کو دیکھتا ہوں میں
یہ ترا دھیان ہے مجسم کیا
فانی بدایونی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

