EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

روز آسیب آتے جاتے ہیں
ایسا کیا ہے غریب خانے میں

فیصل عجمی




شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ
ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی




تو خواب دگر ہے تری تدفین کہاں ہو
دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے

فیصل عجمی




ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جانے دو
آئنے سے نکل رہا ہوں میں

فیصل عجمی




اس کو جانے دے اگر جاتا ہے
زہر کم ہو تو اتر جاتا ہے

فیصل عجمی




جسے کل رات بھر پوجا گیا تھا
وہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھا

فیصل عظیم




درد نے دل کی پرورش کی ہے
درد ہی شعر سے ادا ہوگا

فیصل سعید ضرغام