EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نگاہیں کرتی رہ جاتی ہیں ہجے
وو جب چہرہ سے املا بولتا ہے

فہمی بدایونی




پریشاں ہے وہ جھوٹا عشق کر کے
وفا کرنے کی نوبت آ گئی ہے

فہمی بدایونی




پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا
کتنا آسان تھا علاج مرا

فہمی بدایونی




شہسواروں نے روشنی مانگی
میں نے بیساکھیاں جلا ڈالیں

فہمی بدایونی




اسے لے کر جو گاڑی جا چکی ہے
میں شاید اس کے نیچے آ رہا ہوں

فہمی بدایونی




کس سے اب آرزوئے وصل کریں
اس خرابے میں کوئی مرد کہاں

فہمیدہ ریاض




آج پھر آئینہ دیکھا ہے کئی سال کے بعد
کہیں اس بار بھی عجلت تو نہیں کی گئی ہے

فیصل عجمی