EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کہا فلک نے یہ اڑتے ہوئے پرندوں سے
زمیں پہ لوگ مکانوں میں قید رہتے ہیں

فیصل سعید ضرغام




آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض




آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

فیض احمد فیض




''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض




اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض




ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے

فیض احمد فیض




اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے

فیض احمد فیض