EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو
یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام اس نے لیا

فیصل عجمی




کبھی دیکھا ہی نہیں اس نے پریشاں مجھ کو
میں کہ رہتا ہوں سدا اپنی نگہبانی میں

فیصل عجمی




خوف غرقاب ہو گیا فیصلؔ
اب سمندر پہ چل رہا ہوں میں

فیصل عجمی




کیا علم کہ روتے ہوں تو مر جاتے ہوں فیصلؔ
وہ لوگ جو آنکھوں کو کبھی نم نہیں کرتے

فیصل عجمی




میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں
پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا

فیصل عجمی




میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

فیصل عجمی




رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن
جب تک آنکھیں دیکھ رہی تھیں منظر اچھے تھے

فیصل عجمی