EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تیری گلی کے موڑ پہ پہنچے تھے جلد ہم
پر تیرے گھر کو آتے ہوئے دیر ہو گئی

فہیم شناس کاظمی




تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے
نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر

فہیم شناس کاظمی




اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبو
یعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکا

فہیم شناس کاظمی




اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا
اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا

فہیم شناس کاظمی




وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی
ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا

فہیم شناس کاظمی




یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجود
جیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیا

فہیم شناس کاظمی




زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا

فہیم شناس کاظمی