EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جائیں گے ایک روز سمندر کی گود میں
دریا کے ساتھ ریت کی تحریر اور ہم

فہیم جوگاپوری




کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتے
فہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائے

فہیم جوگاپوری




کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیا
پیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کر

فہیم جوگاپوری




مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہ
آنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئے

فہیم جوگاپوری




ملن کے بعد آتی ہے جدائی
نرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہے

فہیم جوگاپوری




نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میری
یہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھ

فہیم جوگاپوری




رستے میں فہیمؔ اس کی طبیعت کا بگڑنا
گھر جانے کا اک اور بہانہ تو نہیں ہے

فہیم جوگاپوری