گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھ
رستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیا
فہیم شناس کاظمی
خود اپنے ہونے کا ہر اک نشاں مٹا ڈالا
شناسؔ پھر کہیں موضوع گفتگو ہوئے ہم
فہیم شناس کاظمی
کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی
کہ ابھی جل نہیں پائے کہ بجھائے گئے ہم
فہیم شناس کاظمی
کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل
کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر
فہیم شناس کاظمی
کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتا
کوئی سفر مری تکمیل کرنے والا نہیں
فہیم شناس کاظمی
پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں
جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم
فہیم شناس کاظمی
تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہے
اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم
فہیم شناس کاظمی

