EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے
لوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے

فہیم جوگاپوری




تیری یادیں ہو گئیں جیسے مقدس آیتیں
چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر

فہیم جوگاپوری




تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہے
نظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیا

فہیم جوگاپوری




واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے

فہیم جوگاپوری




بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے
تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا

فہیم شناس کاظمی




بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو
پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا

فہیم شناس کاظمی




بچھڑ کے تجھ سے تری یاد بھی نہیں آئی
مکاں کی سمت پلٹ کر مکیں نہیں آیا

فہیم شناس کاظمی