چاند تارے تو مرے بس میں نہیں ہیں آزرؔ
پھول لایا ہوں مرا ہاتھ کہاں تک جاتا
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک لمحے کے لیے تنہا نہیں ہونے دیا
خود کو اپنے ساتھ رکھا جس جہاں کی سیر کی
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک دن جو یونہی پردۂ افلاک اٹھایا
برپا تھا تماشا کوئی تنہائی سے آگے
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں جب میدان خالی کر کے آیا
مرا دشمن اکیلا رہ گیا تھا
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سبھی کے ہاتھ میں پتھر تھے آذرؔ
ہمارے ہاتھ میں اک آئینا تھا
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سخن سرائی کوئی سہل کام تھوڑی ہے
یہ لوگ کس لیے جنجال میں پڑے ہوئے ہیں
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تم خود ہی داستان بدلتے ہو دفعتاً
ہم ورنہ دیکھتے نہیں کردار سے پرے
دلاور علی آزر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

