میں غرق ہو رہا تھا کہ طوفان عشق نے
اک موج بے قرار کو ساحل بنا دیا
دل شاہجہاں پوری
مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے
ساقیٔ مست عجب کیف ترے جام میں ہے
دل شاہجہاں پوری
شباب ڈھلتے ہی آئی پیری مآل پر اب نظر ہوئی ہے
بڑی ہی غفلت میں شب گزاری کہاں پہنچ کر سحر ہوئی ہے
دل شاہجہاں پوری
وقت رخصت تسلیاں دے کر
اور بھی تم نے بیقرار کیا
دل شاہجہاں پوری
یہ بھیگی رات یہ ٹھنڈا سماں یہ کیف بہار
یہ کوئی وقت ہے پہلو سے اٹھ کے جانے کا
دل شاہجہاں پوری
اب مجھ کو اہتمام سے کیجے سپرد خاک
اکتا چکا ہوں جسم کا ملبہ اٹھا کے میں
دلاور علی آزر
بدن کو چھوڑ ہی جانا ہے روح نے آزرؔ
ہر اک چراغ سے آخر دھواں نکلتا ہے
دلاور علی آزر

