EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں غرق ہو رہا تھا کہ طوفان عشق نے
اک موج بے قرار کو ساحل بنا دیا

دل شاہجہاں پوری




مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہے
ساقیٔ مست عجب کیف ترے جام میں ہے

دل شاہجہاں پوری




شباب ڈھلتے ہی آئی پیری مآل پر اب نظر ہوئی ہے
بڑی ہی غفلت میں شب گزاری کہاں پہنچ کر سحر ہوئی ہے

دل شاہجہاں پوری




وقت رخصت تسلیاں دے کر
اور بھی تم نے بیقرار کیا

دل شاہجہاں پوری




یہ بھیگی رات یہ ٹھنڈا سماں یہ کیف بہار
یہ کوئی وقت ہے پہلو سے اٹھ کے جانے کا

دل شاہجہاں پوری




اب مجھ کو اہتمام سے کیجے سپرد خاک
اکتا چکا ہوں جسم کا ملبہ اٹھا کے میں

دلاور علی آزر




بدن کو چھوڑ ہی جانا ہے روح نے آزرؔ
ہر اک چراغ سے آخر دھواں نکلتا ہے

دلاور علی آزر