EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عین فطرت ہے کہ جس شاخ پہ پھل آئیں گے
انکساری سے وہی شاخ لچک جائے گی

دواکر راہی




بات حق ہے تو پھر قبول کرو
یہ نہ دیکھو کہ کون کہتا ہے

دواکر راہی




بہت آسان ہے دو گھونٹ پی لینا تو اے راہیؔ
بڑی مشکل سے آتے ہیں مگر آداب مے خانہ

دواکر راہی




غصے میں برہمی میں غضب میں عتاب میں
خود آ گئے ہیں وہ مرے خط کے جواب میں

دواکر راہی




اس دور ترقی کے انداز نرالے ہیں
ذہنوں میں اندھیرے ہیں سڑکوں پہ اجالے ہیں

دواکر راہی




اس انتظار میں بیٹھے ہیں ان کی محفل میں
کہ وہ نگاہ اٹھائیں تو ہم سلام کریں

دواکر راہی




اس سے پہلے کہ لوگ پہچانیں
خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

دواکر راہی