اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا
میں پریشان ہوا جس کی پریشانی پر
دلاور علی آزر
اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے
دلاور علی آزر
وہی ستارہ نما اک چراغ ہے آزرؔ
مرا خیال تھا نکلے گا طاق سے کچھ اور
دلاور علی آزر
اے انقلاب نو کے اجالے کہاں ہے تو
سڑکوں پہ میرے شہر کی کب تک دھواں رہے
دلکش ساگری
عبث الزام مت دو مشکلات راہ کو راہیؔ
تمہارے ہی ارادے میں کمی معلوم ہوتی ہے
دواکر راہی
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے
ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
دواکر راہی
اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تسکین ہو جاتی
کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے
دواکر راہی

