EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا
میں پریشان ہوا جس کی پریشانی پر

دلاور علی آزر




اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے

دلاور علی آزر




وہی ستارہ نما اک چراغ ہے آزرؔ
مرا خیال تھا نکلے گا طاق سے کچھ اور

دلاور علی آزر




اے انقلاب نو کے اجالے کہاں ہے تو
سڑکوں پہ میرے شہر کی کب تک دھواں رہے

دلکش ساگری




عبث الزام مت دو مشکلات راہ کو راہیؔ
تمہارے ہی ارادے میں کمی معلوم ہوتی ہے

دواکر راہی




اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے
ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے

دواکر راہی




اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تسکین ہو جاتی
کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے

دواکر راہی