EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ راہ عشق ہے آخر کوئی مذاق نہیں
صعوبتوں سے جو گھبرا گئے ہوں گھر جائیں

دل ایوبی




آغاز محبت سے انجام محبت تک
گزرا ہے جو کچھ ہم پر تم نے بھی سنا ہوگا

دل شاہجہاں پوری




آرزو لطف طلب عشق سراسر ناکام
مبتلا زندگی دل انہیں اوہام میں ہے

دل شاہجہاں پوری




اثر عشق سے ہوں صورت شمع خاموش
یہ مرقع ہے مری حسرت گویائی کا

دل شاہجہاں پوری




ہم کو بے چین کئے جاتے ہیں
ہائے کیا شے وہ لئے جاتے ہیں

دل شاہجہاں پوری




حسن خود بیں کو ہوا اور سوا ناز حجاب
شوق جب حد سے بڑھا چشم تماشائی کا

دل شاہجہاں پوری




کیا جانے کس خیال سے چھوڑا پہ حال زار
مجھ پر بڑا کرم ہے مرے چارہ ساز کا

دل شاہجہاں پوری