افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیے
سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی
اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| جوانی |
| 2 لائنیں شیری |
الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے
ہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس لیے وصل سے انکار ہے ہم جان گئے
یہ نہ سمجھے کوئی کیا جلد کہا مان گئے
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس وہم میں وہ داغؔ کو مرنے نہیں دیتے
معشوق نہ مل جائے کہیں زیر زمیں اور
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا
بارہا آزما کے دیکھ لیا
داغؔ دہلوی

