دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
داغؔ دہلوی
دل لے کے ان کی بزم میں جایا نہ جائے گا
یہ مدعی بغل میں چھپایا نہ جائے گا
داغؔ دہلوی
دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
داغؔ دہلوی
دنیا میں جانتا ہوں کہ جنت مجھے ملی
راحت اگر ذرا سی مصیبت میں مل گئی
داغؔ دہلوی
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتا ہے
داغؔ دہلوی
فسردہ دل کبھی خلوت نہ انجمن میں رہے
بہار ہو کے رہے ہم تو جس چمن میں رہے
داغؔ دہلوی
غمزہ بھی ہو سفاک نگاہیں بھی ہوں خوں ریز
تلوار کے باندھے سے تو قاتل نہیں ہوتا
داغؔ دہلوی

