EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غش کھا کے داغؔ یار کے قدموں پہ گر پڑا
بے ہوش نے بھی کام کیا ہوشیار کا

داغؔ دہلوی




غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغؔ دہلوی




ہم بھی کیا زندگی گزار گئے
دل کی بازی لگا کے ہار گئے

داغؔ دہلوی




ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں
وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی




ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گے
تمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا

داغؔ دہلوی




حسرتیں لے گئے اس بزم سے چلنے والے
ہاتھ ملتے ہی اٹھے عطر کے ملنے والے

داغؔ دہلوی




ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل
دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

داغؔ دہلوی